حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، 25 ستمبر 2026ء کو مسجد بیت العتیق، جامعۃ العروۃ الوثقی لاہور میں سربراہ تحریکِ بیداری امت مصطفیٰ پاکستان اور جامعہ عروۃ الوثقی لاہور کے مہتمم علامہ سید جواد نقوی نے نماز جمعہ کے خطبے میں تقویٰ، انسانی زندگی کی اجتماعی حیثیت، امت سازی، امامت، دین کے تسلسل، تعلیمِ کتاب و حکمت اور موجودہ عالمی حالات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔
خطیب جمعہ نے مؤمنین کو تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کی حفاظت، رہنمائی اور نظم کے لیے دین عطا فرمایا ہے اور تقویٰ اسی الٰہی نظام کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہے۔
انہوں نے کہا: انسان فطری طور پر ایک سماجی اور اجتماعی مخلوق ہے، اس لیے انسانی نسل اجتماعیت اور معاشرت کو ترک نہیں کرسکتی۔ افراد آتے اور چلے جاتے ہیں، لیکن معاشرہ اور اجتماعی نظام نسل در نسل آگے بڑھتا رہتا ہے۔ اسی لیے دین کی ہدایات میں فرد کے ساتھ ساتھ معاشرے اور اجتماع کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
علامہ سید جواد نقوی نے خطبے کے دوران اصلاح اور انقلاب کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: اصلاح کا مقصد موجودہ سماج کی درستگی اور بقا ہے جبکہ انقلاب سماجی نظام میں بنیادی تبدیلی کا نام ہے۔ انسانی معاشرے کو ایک جسم سے تشبیہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جس طرح جسم کی زندگی تمام اعضاء کی زندگی کی بنیاد ہے، اسی طرح اجتماعی زندگی بھی افراد کے باہمی ربط اور اجتماعی نظام سے قائم رہتی ہے۔

انہوں نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ دین کو صرف عبادات تک محدود کر دینا دین کی جامع حیثیت کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے خطبے میں شہید مطہریؒ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مکمل دین دراصل مکمل زندگی سے متعلق ہے اور عبادات دین کا صرف ایک حصہ ہیں۔ اس لیے نئی نسل کو دین کی جامع اور اجتماعی شناخت سے روشناس کرانا ضروری ہے۔
خطیب جمعہ نے امت سازی کے قرآنی تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: انسانی اجتماع کو امت کی شکل دینے اور اس کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے امامت کا منصب مقرر فرمایا۔ حضرت ابراہیمؑ کو امامت عطا کیے جانے اور امت سازی کی ذمہ داری کا ذکر کرتے ہوئے کہا: انبیائے کرامؑ اپنی ذاتی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ الٰہی ہدایت اور حکم کے مطابق امت کی رہنمائی اور نظام سازی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔
خطیب جمعہ نے قرآن کریم کی آیت «وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ» کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ انبیائے الٰہی علیہم السلام امت سازی اور دینی نظام کے قیام سے متعلق امور میں الٰہی ہدایت کے تابع ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی وضاحت کی کہ انسان کی ذاتی زندگی میں اختیار اور ارادے کی نفی نہیں کی گئی، بلکہ مؤمن کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی کو الٰہی رضا کے مطابق ڈھالے۔
انہوں نے حضرت ابراہیمؑ کی دعا کا حوالہ دیتے ہوئے بعثتِ انبیاء، تعلیمِ کتاب و حکمت اور تزکیۂ نفس کے تسلسل کو امت کی اصلاح و بیداری کے لیے بنیادی قرار دیا۔ ان کے مطابق ہر نسل کو اپنی ذمہ داری خود ادا کرنا ہوتی ہے اور سابقہ امتوں کی کامیابیوں کو صرف یاد کرنا کافی نہیں، بلکہ موجودہ نسل کو اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق اپنا فریضہ ادا کرنا ہوگا۔
جامعہ عروۃ الوثقی لاہور کے مہتمم نے خطبے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دین کے تسلسل کو منقطع نہیں کیا جاسکتا۔ انبیاء علیہم السلام، ائمہ علیہم السلام اور علماءِ دین کے ذریعے دینی رہنمائی کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ ہر دور اور ہر نسل کے لیے دین کی جامع تعلیم ضروری ہے، جبکہ بدلتے ہوئے حالات اور نئی ضروریات کے مطابق اجتہاد کے ذریعے دینی احکام اور رہنمائی کو پیش کرنے کی ضرورت بھی موجود رہتی ہے۔
انہوں نے تعلیمِ قرآن کے حوالے سے کہا: قرآن کریم کی تلاوت اپنی جگہ اہم ہے، تاہم قرآن کی تعلیم کا مقصد صرف قراءت نہیں بلکہ کتاب و حکمت کو سمجھنا اور زندگی میں اس کی رہنمائی کو نافذ کرنا بھی ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت، تدبر اور تعلیم کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا: قرآن سے حقیقی استفادہ اس وقت ممکن ہے جب اس کے پیغام اور ہدایات کو سمجھا جائے۔

سربراہ تحریکِ بیداری امت مصطفیٰ پاکستان نے خطبے میں «تعلیم الکتاب والحکمہ» کے مفہوم پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کتاب کو ایک منظم فکری و عملی نظام اور حکمت کو اس نظام کے درست استعمال اور عملی رہنمائی سے تعبیر کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے سید جمال الدین افغانی، شہید مطہریؒ، شہید باقر الصدرؒ اور دیگر فکری شخصیات کی دینی و فکری کاوشوں کا بھی ذکر کیا۔
خطیب جمعہ نے واضح کیا کہ محض قرآن خوانی یا مذہبی معلومات کافی نہیں بلکہ قرآن کے نظامِ ہدایت کو سمجھنا اور حکمت کے ساتھ اسے زندگی میں نافذ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے حکمت کے مفہوم کو بھی بیان کرتے ہوئے اسے انسان کے اعمال اور خواہشات کو صحیح سمت دینے والے اصول کے طور پر واضح کیا۔
خطیبِ جمعہ نے خطبے کے دوسرے حصے میں موجودہ عالمی حالات، فلسطین، ایران، عالمی طاقتوں کے رویوں اور مسلم دنیا کی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے عالمی سطح پر طاقت کے استعمال، جنگی پالیسیوں اور عالمی اداروں کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے عوام میں سیاسی و اجتماعی شعور اور بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے پاکستان کے کردار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: موجودہ علاقائی حالات میں پاکستان کو اپنے قومی مفادات، عالمی وقار اور امن کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ خطبے میں ایران اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے سفارتی کردار اور جنگ کے بجائے امن و استحکام کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
خطیب جمعہ نے عوامی بیداری کو معاشروں کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا: جب تک عوام میں شعور پیدا نہیں ہوگا، حکمرانوں اور عالمی طاقتوں کے غلط فیصلوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے حضرت ابراہیمؑ کی دعا کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن، تزکیہ، تعلیمِ کتاب اور حکمت کے ذریعے امت کی بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔
خطبے کے اختتام پر پاکستان، مسلم امہ اور مظلوم اقوام کے لیے دعا کی گئی۔ فلسطین اور دیگر مظلوم مسلمانوں کی کامیابی، امت مسلمہ کے اتحاد و بیداری، پاکستان کی سلامتی اور ملک کو داخلی و خارجی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعائیں کی گئیں، جبکہ امام زمانہؑ کے ظہور میں تعجیل اور اسلامی معاشروں میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے بھی دعا کی گئی۔











آپ کا تبصرہ